ایران کیخلاف دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ اور اس کے لے پالک اسرائیل کی جارحیت کی ناکامی اور شکست اس صدی کا اب تک رونما ہونیوالا سب سے بڑا واقعہ تھا ۔لیکن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کا جنازہ اس سے بھی بڑا حیران کن واقعہ ثابت ہوا ۔ جس میں دنیا کے تقریبا 70 سے زائد ممالک کے وفود نے شرکت کی اور شہید رہنما کو خراج تحسین پیش کیا گویا یہ ایک طرح سے ایران کے موقف کی عالمی حمایت اور امریکہ و اسرائیل کی مخالفت کا غماز ہے ۔ایران نے امام خامنہ ای کو تو کھو دیا لیکن ان کی شہادت اور جنازے نے انہیں سیاسی اور اخلاقی لحاظ سے جو کچھ دیا ہے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ایک ہفتے تک جاری رہنے والے سوگ میں کئی حیرت انگیز واقعات دیکھنے میں آئے ۔میرا بیٹا ڈاکٹر عمار علی جان بھی ایک سامراج مخالف تنظیم کی دعوت پر اس جنازے میں شریک تھا۔ اس نے ایرانی عوام کے جذبے اور ولولے کے حوالے سے جو واقعات سنائے وہ ناقابل یقین لگتے ہیں ۔ ایرانی عوام نے ثابت کر دیا کہ آج بھی اسلحے سے زیادہ مادر وطن پر مر مٹنے کے جذبے کی اہمیت زیادہ ہے۔ ایران کے اندر اور باہر بہت سے لوگوں کو ایران کے اسلامی انقلاب پر کئی تحفظات ہو سکتے ہیں لیکن ایران کے جغرافیائی تحفظ اور دفاع کیلئے پوری ایرانی قوم کا اپنے تمام تر اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دنیا کی واحد سپر پاور کے خلاف ڈٹ جانا اور اسے شکست دینا بہرحال ایک ایسا واقعہ ہے جسکی مثال نہیں ملتی۔ کون سوچ سکتا تھا کہ دنیا کی واحد سپر پاور امریکہ اور اسکے ترقی یافتہ حلیف اسرائیل کے، عشروں سے پابندی کے شکار ایران پر لگاتار حملوں کے بعد ایران، خطے اور دنیا کا منظر نامہ اچانک بدل جائیگا۔ سب کو توقع تو یہ تھی کہ ایران اپنے تمام سرکردہ سائنسدانوںاور سیاسی لیڈروں بشمول سپریم لیڈر امام خامنہ ای کی المناک شہادت کے بعدامریکی و اسرائیلی جارحیت کے سامنے زیادہ دیر تک ٹھہر نہیں سکے گا اور غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دےگا۔ اس خیال کو ان اطلاعات نے مزید تقویت بخشی کہ ایرانی حکومت اور عوام کے درمیان مہنگائی اور دوسرے ایشوز پر شدید اختلافات پائے جاتے ہیں نیز برسوں کی پابندیوں کی وجہ سے ایرانی معیشت بھی تباہ حال ہے۔ لہٰذا ایران میں رجیم چینج یعنی حکومت کی تبدیلی چند دنوں کی بات ہو گی۔ ایران کو نفسیاتی طور پر مغلوب اور کمزور کرنے کیلئے امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے سے پہلے وینزویلا کے صدر نکولس ماڈورو اور انکی اہلیہ سیلیا فلورز کو ایک گوریلا حملے میں اغوا کر کے امریکہ پہنچا دیا تھا۔ یہ سب کچھ اپنی فوجی طاقت پر غرور کے ساتھ ساتھ ایران کیلئے ایک واضح پیغام بھی تھا کہ امریکہ جب اور جہاں چاہے اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حکومتوں کا تختہ الٹ سکتا ہے۔ اس سے پہلے امریکی سامراج کا طریقہ ء واردات مختلف ہوتا تھا وہ براہ راست فوجی حملے کی بجائے مقامی غداروں کے ساتھ مل کر سازشوں کے ذریعے اپنی مرضی کی حکومتیں تبدیل کیا کرتا تھا لیکن ٹیکنالوجی کی خوفناک پیشرفت نے دنیا کو انتہائی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ کیونکہ میزائل گھر کے کمرے میں کھڑکیوں اور روشن دانوں کے ذریعے داخل ہو کر اپنے ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جیسا کہ اسرائیل نے حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کو ایران میں شہید کیا تھا ۔یوں لگتا ہے کہ زمینی فوج کی اب وہ اہمیت نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی بلکہ شاید فضائی فوج بھی پہلے کی طرح اہم نہیں رہی کیونکہ ایران کے پاس تو کوئی فضائیہ بھی نہیں تھی آج کی جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار وہ میزائل ہیں جنہوں نے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکہ کے فوجی اڈوں پر تباہی مچا دی اور انکے دفاعی نظام یعنی انٹرسپٹرز کو بھی ناکام بنا دیا۔اس حوالے سے پوری قوم محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی شکر گزار ہے کہ انہوں نے پاکستان کو پہلی مرتبہ میزائل ٹیکنالوجی دی۔ جس طرح انکے والد نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تھی اور فوجی لحاظ سے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ اگرچہ ہمارے ہاں بھی ایران کی حمایت اور امریکی و اسرائیلی مخالفت اپنے عروج پر ہے لیکن کچھ نام نہاد لبرل اور سیکولر حضرات ہنوز کنفیوژن کا شکار ہیں۔ سوشل میڈیا پر جہاں میرے بیٹے ڈاکٹر عمار علی جان کی ام خا منہ ای کے جنازے میں شرکت اور ایرانی عوامی اجتماعات اور میڈیا میں اسکی تقریروں اور بیانات کو بے حد سراہا جا رہا ہے اور اسے بہادر نظریاتی نوجوان قرار دیا جا رہا ہے۔ وہیں ہمارے کچھ بزرگ ترقی پسند حضرات نے اسکی اس ایونٹ میں شرکت پر شدید نکتہ چینی بھی کی ہے۔ ترقی پسند یا لبرل ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ سامراج کی حمایت کرنا شروع کر دیں بالفرض ہمیں ایران کے اسلامی انقلاب پر بہت سے تحفظات ہوں لیکن کیا ہم اس لیے امریکہ اور اسرائیل کی حمایت کرنا شروع کر دیں کہ ہم ایرانی انقلاب کے نظریاتی مخالف ہیں؟ بہرحال کچھ بھی ہو امریکہ اور اسرائیل بہت بڑی برائی ہیں۔ جنہوں نے ایران کے علاوہ غزہ میں 70 ہزار سے زائد بے گناہ انسانوں کو شہید کیا ہے۔ مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے جو ظلم کے خلاف نفرت اور مظلوموں کی حمایت کیلئے امام خامنہ ای کے جنازے میں شریک ہوا۔ جو میرے برسوں پہلے لکھے ان اشعار کو عملی جامہ پہنا رہا ہے، اللّٰہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ۔
اس کالم نگار کے مزید کالمز
اس کالم نگار کے مزید کالمز جلد شامل کیے جائیں گے۔

