اہم ترین

بلوچستان پر ضلع مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملے کی اطلاعات

شیئر کریں:

اکستان کے صوبے بلوچستان میں حکام نے مستونگ میں سکیورٹی فورسز کے ایک قافلے پر حملے کی تصدیق کی ہے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط ہر سرکاری حکام نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے یہ حملہ جمعرات کو ضلع مستونگ میں کوئٹہ، کراچی ہائی وے پر کیا گیا۔

اگرچہ سرکاری حکام نے انتظامی اور حکومتی سطح پر اس حملے کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے اس میں سیکورٹی اہلکاروں کے جانی نقصان کے بارے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔

اس حملے کی ذمہ داری کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

سکیورٹی فورسز کے قافلے پر حملہ کہاں ہوا؟

کوئٹہ میں انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار کے علاوہ ایک حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملہ ضلع مستونگ میں کھڈکوچہ کے علاقے گُرو میں کیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ایک درجن سے زائد بسوں اور ان کی سکیورٹی پر مامور گاڑیوں پر مشتمل سیکورٹی فورسز کا ایک قافلہ کوئٹہ کی جانب سے کراچی کی جانب جارہا تھا۔

انتطامیہ کے اہلکار نے مزید بتایا کہ اس قافلے میں وہ سیکورٹی اہلکار تھے جو چھٹیوں پر جارہے تھے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ جب یہ قافلہ گُرو کے علاقے میں پہنچا تو اس پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا، جس میں ایک بس کو شدید نقصان پہنچا۔

دوسری جانب کھڈکوچہ کے ایک رہائشی اللہ بخش (فرضی نام) نے بتایا کہ ’حملہ شدید تھا اور دیر تک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔‘

’حملہ قافلے کے اگلے حصے پر کیا گیا، جس کے بعد پچھلے حصے کو روک دیا گیا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ اس حملے کی وجہ سے کوئٹہ، کراچی شاہراہ پر تین سے چار گھنٹے تک ٹریفک بند رہی، جبکہ حملے کے کچھ دیر بعد فضا میں ہیلی کاپٹرز بھی پرواز کرتے ہوئے دکھائی دیئے۔

مستونگ میں نواب غوث بخش شہید میموریل ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے دو سینیئر ڈاکٹروں سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ یہاں کوئی زخمی یا لاش نہیں لائی گئی، تاہم نواب غوث بخش ہسپتال کے سینیئر ڈاکٹر نے معلومات فراہم نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کو معلومات فراہم کی گئی ہے اس لیے وہاں سے رابطہ کیا جائے ۔

کھڈکوچہ کہاں واقع ہے؟

کھڈ کوچہ مستونگ شہر سے جنوب مغرب میں اندازاً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

یہ ضلع مستونگ کا زرخیز علاقہ ہے، جہاں سیب اور انگور کے علاوہ دیگر پھلوں کے باغات ہیں۔

مستونگ کوئٹہ سے متصل ضلع ہے، جبکہ اس کا ہیڈکوارٹر مستونگ شہر بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مغرب میں اندازاً 45 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

مستونگ کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ شورش سے زیادہ متاثر ہیں۔

مستونگ میں طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز پر حملوں کے علاوہ سنگین بدامنی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

تاہم سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ضلع میں حالات کی بہتری کے لیے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔

شیئر کریں:

اپنا تبصرہ لکھیں