اہم ترین

امریکہ نے مفاہمتی یادداشت کی ’خلاف ورزی‘ کی، معاہدہ ’عملاً ختم‘ ہوگیا: ایرانی نائب وزیرِ خارجہ

شیئر کریں:

ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر کے مفاہمتی یادداشت کی ’خلاف ورزی‘ کی ہے اور یہ معاہدہ اب ’عملاً ختم‘ ہو چکا ہے۔

گذشتہ چار روز سے امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے پر حملے جاری ہیں۔ جہاں واشنگٹن اپنی فوجی کارروائیوں میں ایران کے ساحلی علاقوں کا نشانہ بنا رہا ہے، وہیں تہران نے خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ایران کی تجارتی جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستان اور قطر کی ثالثی میں جاری تھے، لیکن پھر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے تہران کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایران کے نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران سفارتکاری کا راستہ ترک نہیں کرے گا لیکن امریکہ کے ساتھ نئے مذاکرات کا آغاز بھی نہیں کرے گا۔

انھوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ’فوجی دباؤ ایران کو مذاکرات پر آمادہ کر سکتا ہے یا آبنائے ہرمز کے بارے میں اس کے مؤقف میں تبدیلی لا سکتا ہے۔‘

شیئر کریں:

اپنا تبصرہ لکھیں