اسلام آباد (اسرار خان، ساجد چوہدری) واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد سعید نے کہا ہے کہ پاکستان کا تقریباً 5 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کم از کم مارچ 2028 تک بند رہے گا، تربیلا و منگلا کے بعد ملک میں ایک بھی بڑا ڈیم نہیں بنا، بھارت نے 5 ہزار ڈیم بنائے، پاکستان کو پانی کی سکیورٹی کیلئے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے آبی وسائل کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔کمیٹی میں بریفنگ کے دوران بجلی بلوں میں نیلم جہلم سرچارج کے نام پر صارفین پر مسلسل مالی بوجھ ڈالے جانے کا انکشاف ہوا۔ سینیٹ قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر جام سیف اللہ خان کی زیر صدارت ہوا ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں پانی کی شدید قلت، آئندہ برسوں میں بحران سنگین ہوسکتا ہے، چیئرمین کمیٹی نے انڈس واٹر ٹریٹی، مستقبل کے آبی ذخائر کی تعمیر ،قومی آبی سلامتی پر اِن کیمرا اجلاس کی تجویز دی۔ تفصیلات کے مطابق واپڈا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد سعید نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کا تقریباً 5 ارب ڈالر کی لاگت سے بننے والا نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کم از کم مارچ 2028 تک بند رہے گا۔ اس طرح زیر زمین ٹنل (سرنگ) کے نظام کو شدید نقصان پہنچانے والے ’’راک برسٹ‘‘ (چٹان پھٹنے کے واقعے) کے بعد، اس شدید نقصان دہ بندش کا دورانیہ بڑھ کر تقریباً چار سال ہو جائیگا۔ یہ صورتحال ان صارفین کو (نقصان کا) بوجھ اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے جو طویل عرصے سے اپنے بجلی کے بلوں (نیلم جہلم سرچارج) کے ذریعے اس منصوبے کی قیمت ادا کر رہے ہیں، جبکہ وہ بجلی کے سستے ترین ذرائع میں سے ایک سے محروم ہیں۔ محمد سعید نے بتایا کہ 969 میگاواٹ کے اس ہائیڈرو پاور پلانٹ کی مرمت کا کام جاری ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ مارچ 2028 تک دوبارہ فعال ہو جائیگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعمیر سے پہلے کی جانے والی ارضیاتی تحقیقات میں اس علاقے کو زلزلے کی زد میں آنے والا زون قرار دیا گیا تھا، جبکہ ٹنل کی خرابی سے متعلق تحقیقات اب بھی جاری ہیں۔ اس انکشاف پر سینیٹرز نے ملک کے مہنگے ترین عوامی بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) کے منصوبوں میں سے ایک کی ناکامی کے پیچھے ممکنہ غفلت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی قسم کی غفلت کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داروں کا احتساب کیا جانا چاہیے۔ یہ منصوبہ، جس کا ٹھیکہ جولائی 2007 میں دیا گیا تھا اور تقریباً ایک دہائی کی تعمیر کے بعد اگست 2018 میں شروع کیا گیا تھا، اس پر لگ بھگ 500 ارب روپے (اس وقت کے شرح مبادلہ کے مطابق تقریباً 4.7 ارب ڈالر) کی لاگت آئی تھی۔ یہ پروجیکٹ مئی 2024 سے اس وقت سے بند (آف لائن) ہے جب ’’راک برسٹ‘‘ (چٹان پھٹنے کے واقعے) نے اس کی ہیڈ ریس ٹنل (اصل سرنگ) کو شدید نقصان پہنچایا تھا، جس سے نیشنل گرڈ سستی ہائیڈرو پاور سے محروم ہو گیا اور مہنگی تھرمل بجلی پر انحصار بڑھ گیا۔ سینیٹر جام سیف اللہ خان کی صدارت میں ہونے والے کمیٹی کے اس اجلاس میں پاکستان میں پانی کی بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال (واٹر ان سیکورٹی) کے بارے میں بھی سخت انتباہات سامنے آئے۔
5 ارب ڈالر کا نیلم جہلم پن بجلی منصوبہ مارچ 2028 تک کیلئے بند رہے گا، چیئرمین واپڈا
