خصوصی رپورٹس

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم

شیئر کریں:

لاہور ہائی کورٹ میں اصلاحات ،جدید عدالتی نظام اور فوری انصاف کا نیا باب:دوسالہ دور میں عدالتی ،انتظامی ،ڈیجیٹل اور انفراسٹرکچر اصلاحات کی نئی تاریخ رقم

 قانون دان سے پہلی خاتون چیف جسٹس تک کا سفر

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم 12 نومبر 1966ء کو پیدا ہوئیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں پولیٹیکل سائنس میں ماسٹرز کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے شریعہ لاء اور ایڈوانسڈ شریعہ لاء میں ڈپلومے جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے انٹیلیکچوئل پراپرٹی رائٹس میں خصوصی ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔ 1996 ء میں وکالت کا آغاز کیا اور بہت کم عرصے میں آئینی، دیوانی، فوجداری، بینکاری، نیب، انسداد دہشت گردی اور وائٹ کالر کرائم جیسے پیچیدہ مقدمات میں اپنی قانونی مہارت منوائی۔ 2008ء میں سپریم کورٹ کی وکیل بنیں، 2013ء میں لاہور ہائی کورٹ کی ایڈیشنل جج مقرر ہوئیں جبکہ 16 مارچ 2015ء کو مستقل جج کا حلف اُٹھایا۔ 11 جولائی 2024ء کو پہلی خاتون چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ بن کر انہوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔

11 جولائی 2024ء کو جب جسٹس مس عالیہ نیلم نے لاہور ہائی کورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تو یہ صرف ایک آئینی تقرری نہیں بلکہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک تاریخی لمحہ تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کی ایک سو سے زائد سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون نے اس اعلیٰ منصب پر فائز ہو کر یہ ثابت کیا کہ صلاحیت، دیانت، محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت ہی اصل معیار ہیں۔چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے عہدہ سنبھالتے ہی واضح کر دیا کہ ان کی اوّلین ترجیح صرف مقدمات کا فیصلہ کرنا نہیں بلکہ پورے عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا، عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنا، عدالتی شفافیت کو فروغ دینا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عدالتوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر عرصے میں لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب کی ضلعی عدلیہ میں ایسی اصلاحات متعارف کرائی گئیں جنہیں عدالتی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔

ادارہ جاتی اصلاحات 

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کا سب سے نمایاں وژن عدالتی نظام کو جدید، شفاف، تیز رفتار اور عوام دوست بنانا تھا۔ انہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی واضح کیا کہ انصاف کی فراہمی صرف فیصلے سنانے تک محدود نہیں بلکہ ایسا مضبوط نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے جس میں ہر ادارہ ایک دوسرے سے مربوط ہو اور ہر شہری کو بلا تاخیر انصاف میسر آئے۔اسی وژن کے تحت لاہور ہائی کورٹ میں انتظامی اصلاحات، جدید آئی ٹی سسٹمز، ریکارڈ مینجمنٹ، مالیاتی شفافیت، کیس مینجمنٹ، انفراسٹرکچر کی بہتری، وکلااور سائلین کی سہولت، عدالتی عملے کی تربیت اور احتساب کے نظام کو یکجا کرتے ہوئے ایک جامع اصلاحاتی پروگرام شروع کیا گیا، جس کے نتائج بہت کم عرصے میں نمایاں ہونا شروع ہو گئے۔

انٹیگریٹڈ کریمنل جسٹس سسٹم  فوجداری نظام میں تاریخی انقلاب

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی رہنمائی میں پنجاب میں پہلی مرتبہ انٹیگریٹڈ کریمنل جسٹس سسٹم (ICJS) متعارف کرایا گیا، جسے عدالتی اصلاحات کا سب سے بڑا سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔اس نظام کے ذریعے پولیس، پراسیکیوشن، عدالتوں، جیل خانہ جات، پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی، میڈیکولیگل، پروبیشن اور پیرول سمیت تمام متعلقہ اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر مربوط کیا گیا۔ اب ایف آئی آر کے اندراج سے لے کر مقدمے کے فیصلے، سزا یافتہ قیدی کے ریکارڈ اور دیگر تمام عدالتی معلومات ایک ہی نظام کے ذریعے دستیاب ہیں۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کا مؤقف رہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر تیز رفتار اور شفاف انصاف ممکن نہیں ،اسی لیے انہوں نے عدالتی نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے کا آغاز کیا۔

صوبائی جسٹس کمیٹی کی فعالی

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے صوبائی جسٹس کمیٹی (PJC) کو فعال کرتے ہوئے اس کے باقاعدہ اجلاسوں کا سلسلہ شروع کیا۔ ان اجلاسوں میں پولیس، پراسیکیوشن، جیل حکام، فرانزک ماہرین اور عدلیہ کے نمائندوں کو ایک میز پر لا کر ایسے فیصلے کیے گئے جن کا مقصد صرف مقدمات نمٹانا نہیں بلکہ پورے فوجداری نظام کو مؤثر بنانا تھا۔ان کی ہدایات پر لاکھوں زیر التوا چالان بروقت عدالتوں میں جمع کرانے، گواہوں کی حاضری یقینی بنانے، نئی جیلوں کی تعمیر، قیدیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے متعدد پالیسی فیصلے کیے گئے۔

جیل اصلاحات: سزا نہیں، اصلاح اور بحالی کا تصور

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے جیلوں کو صرف قید کی جگہ نہیں بلکہ اصلاح اور بحالی کا مرکز بنانے پر خصوصی توجہ دی۔ ان کی ہدایات پر پنجاب کی مختلف جیلوں میں قیدیوں کیلئے فنی تعلیم، کمپیوٹر کورسز اور ہنر مندی کے پروگرام شروع کیے گئے تاکہ رہائی کے بعد وہ باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔ انہوں نے خواتین قیدیوں کیلئے نئی جیلوں کی تعمیر، جیلوں میں طبی سہولیات، ایڈز، ہیپا ٹائٹس اور ٹی بی کے علاج، سی سی ٹی وی نگرانی، میڈیکل افسران کی موجودگی اور قیدیوں کی اموات کی شفاف تحقیقات کو بھی یقینی بنانے کیلئے متعدد اقدامات کیے۔

خواتین کے تحفظ اور صنفی انصاف کے فروغ میں قائدانہ کردار

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے اپنے عدالتی اور انتظامی دور میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کو خصوصی اہمیت دی۔ ان کا مؤقف رہا کہ انصاف کی فراہمی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک خواتین کو ایک محفوظ، باوقار اور فوری عدالتی نظام میسر نہ ہو۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے صنفی بنیاد پر تشدد کے مقدمات کی جلد سماعت اور متاثرہ خواتین کو بہتر قانونی معاونت فراہم کرنے کیلئے متعدد اقدامات کیے۔ان کی ہدایات پر صنفی تشدد کے مقدمات کیلئے خصوصی عدالتوں کے قیام، انسدادریپ (تحقیقات و ٹرائل) ایکٹ 2021ء پر مؤثر عملدرآمد، پولیس اور پراسیکیوشن کے درمیان بہتر رابطے اور عوامی آگاہی مہمات کا آغاز کیا گیا۔ ان اقدامات کا مقصد متاثرہ خواتین کو جلد انصاف فراہم کرنا اور عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کو مزید مضبوط بنانا تھا۔

جعلی مقدمات کی روک تھام اور بائیومیٹرک سسٹم کا نفاذ

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے ضلعی عدالتوں میں جعلی مقدمات، فرضی شناخت اور عدالتی ریکارڈ میں جعلسازی کے بڑھتے ہوئے رجحان کا سخت نوٹس لیا۔ ان کی سربراہی میں پہلی مرتبہ ایسے جامع ایس او پیز تیار کیے گئے جن کا مقصد فراڈ اور مالی بے ضابطگیوں کا مکمل خاتمہ تھا۔اسی سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب بھر کی ضلعی عدالتوں میں مقدمات کے اندراج کیلئے بائیو میٹرک تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا۔ اس نظام کے تحت وکلااور سائلین کی شناخت کی تصدیق کے بعد ہی مقدمہ دائر کیا جاتا ہے جبکہ نادرا کے ای سہولت مراکز پر بھی بائیومیٹرک سہولت فراہم کی گئی تاکہ عوام کو آسانی میسر آ سکے۔

 جوڈیشل کمپلیکسز اور بنیادی سہولیات کی فراہمی

چیف جسٹس صاحبہ نے صرف لاہور تک اصلاحات محدود نہیں رکھیں بلکہ پورے پنجاب میں عدالتی انفراسٹرکچر کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ ان کی ہدایات پر میانوالی، قصور، جھنگ، کوٹلی ستیاں، گوجرخان اور دیگر اضلاع میں جوڈیشل کمپلیکسز کی تعمیر اور تکمیل پر خصوصی توجہ دی گئی۔اسی طرح تحصیل میلسی میں ایڈیشنل سیشن ججز کیلئے نیا عدالتی بلاک مکمل کیا گیا۔ مختلف اضلاع میں ریکارڈ رومز، لائبریریاں، باؤنڈری والز، صاف پانی، انتظار گاہیں اور شیڈز کی تعمیر بھی عمل میں لائی گئی۔

وکلاء کی فلاح و بہبود

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے وکلا برادری کے مسائل کو ہمیشہ ترجیح دی۔ ان کی خصوصی کاوشوں سے پنجاب حکومت نے نقل فارم فیس میں نمایاں کمی کی، جس کے نتیجے میں پانچ سو روپے کی فیس کم ہو کر ایک سو سے ڈیڑھ سو روپے تک رہ گئی۔انہوں نے پنجاب بھر کے بار رومز میں لیڈیز بار رومز اور ڈے کیئر سنٹرز کے قیام کیلئے بھی فنڈز فراہم کروائے تاکہ خواتین وکلا کو پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی انجام دہی میں سہولت حاصل ہو سکے۔

 ہیلتھ انشورنس

چیف جسٹس عالیہ نیلم کی خصوصی ہدایات پر لاہور ہائی کورٹ اور پنجاب کی ضلعی عدلیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ججز کیلئے ہیلتھ انشورنس سکیم شروع کی گئی۔ بعد ازاں افسران اور ملازمین کو بھی اس سہولت میں شامل کرنے کیلئے اقدامات کیے گئے۔یہ اقدام عدالتی افسران کی فلاح و بہبود اور بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کی جانب ایک اہم سنگ میل تصور کیا جا رہا ہے۔

جدید مالیاتی نظام کا فروغ

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے عدالتی مالیاتی نظام کو بھی جدید خطوط پر استوار کیا۔ سول کورٹس اکاؤنٹس مینجمنٹ سسٹم، جوڈیشل ڈپازٹس اینڈ سیکیورٹیز مینجمنٹ سسٹم، آن لائن پیمنٹ سسٹم اور یوٹیلٹی بل مینجمنٹ سسٹم جیسے منصوبوں کے ذریعے عدالتی مالیاتی امور میں شفافیت، خودکار نگرانی اور احتساب کو یقینی بنایا گیا۔ان اصلاحات کی بدولت جعلی چالان، مالی بے ضابطگیوں اور غیر ضروری تاخیر کے امکانات میں نمایاں کمی آئی جبکہ ریکارڈ کی حفاظت اور نگرانی بھی زیادہ مؤثر ہو گئی۔

وہیکل مونیٹائزیشن پالیسی سے کروڑوں روپے کی بچت

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کیلئے موٹر وہیکل مونیٹائزیشن پالیسی نافذ کی۔ اس پالیسی کے تحت افسران کو سرکاری گاڑیاں خریدنے کا اختیار دیا گیا جبکہ انہیں ماہانہ فیول الاؤنس بھی مقرر کیا گیا۔اس اقدام سے سرکاری گاڑیوں کی مرمت، دیکھ بھال اور ایندھن پر آنے والے اخراجات میں کروڑوں روپے کی بچت ہوئی۔

ریکارڈ مقدمات کے فیصلے

 مس عالیہ نیلم صاحبہ نے منصب سنبھالتے ہی زیر التوا مقدمات کو کم کرنے کو اپنی اوّلین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے کیس مینجمنٹ، فاسٹ ٹریک پالیسی، خصوصی بنچز، جدید مانیٹرنگ سسٹم اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے عدالتوں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ان اصلاحات کے نتیجے میں 2025ء کے دوران لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ 73 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جو نہ صرف ایک تاریخی ریکارڈ تھا بلکہ اسی سال دائر ہونے والے مقدمات سے بھی زیادہ تھا۔ اس کامیابی کو عدالتی نظام میں مؤثر انتظامی قیادت کی ایک نمایاں مثال قرار دیا گیا۔گزشتہ دو برسوں کے دوران لاہور ہائی کورٹ میں تین لاکھ تیس ہزار سے زائد مقدمات نمٹائے گئے جبکہ صوبہ بھر کی ضلعی عدالتوں میں تقریباً 79 لاکھ 43 ہزار سول اور سیشن مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جو پنجاب کی عدالتی تاریخ کی بلند ترین کارکردگی تصور کی جاتی ہے۔

زیر التوا مقدمات کا فزیکل آڈٹ

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم کی ہدایات پر لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام زیر التوا مقدمات کا مکمل فزیکل آڈٹ کیا گیا۔ اس عمل کے ذریعے مقدمات کو نوعیت، پیچیدگی اور ترجیح کے مطابق الگ الگ تقسیم کیا گیا تاکہ ہر مقدمے کی جلد سماعت ممکن بنائی جا سکے۔سول، فوجداری، آئینی اور ٹیکس مقدمات کی الگ الگ درجہ بندی کے بعد خصوصی بنچز تشکیل دیے گئے، جنہوں نے مختصر عرصے میں ہزاروں مقدمات نمٹائے۔ اس اصلاح سے مقدمات کی منصوبہ بندی اور کیس فلو مینجمنٹ میں غیر معمولی بہتری آئی۔

ماڈل کورٹس: فوری انصاف کی نئی روایت

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پنجاب بھر میں ماڈل کورٹس کے نظام کو مزید فعال بنایا تاکہ عوام کو کم سے کم وقت میں معیاری انصاف فراہم کیا جا سکے۔ماڈل کورٹس میں مقدمات کی سماعت کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر کی گئیں، جن پر سختی سے عملدرآمد کیا گیا۔ اس نظام کے ذریعے ہزاروں مقدمات مختصر مدت میں نمٹائے گئے جبکہ عدالتی تاخیر میں نمایاں کمی آئی۔ ماڈل کورٹس آج پنجاب میں فوری انصاف کی ایک کامیاب مثال سمجھی جاتی ہیں۔

ڈیجیٹل عدلیہ کی بنیاد

چیف جسٹس صاحبہ کا یقین ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے بغیر عدالتی نظام کو مؤثر نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی سوچ کے تحت لاہور ہائی کورٹ کے آئی ٹی ونگ نے ان کی رہنمائی میں 40 سے زائد نئے سافٹ ویئر، آن لائن پلیٹ فارمز اور ڈیجیٹل سسٹمز تیار کیے۔ان میں نوٹیفکیشن مینجمنٹ سسٹم، کمپلینٹ پورٹل، کیوری مینجمنٹ سسٹم، انوینٹری مینجمنٹ، پروکیورمنٹ مینجمنٹ، یوٹیلٹی بل مینجمنٹ، جوڈیشل انفراسٹرکچر مینجمنٹ، پرفارمنس مینجمنٹ، محفوظ جوڈیشل کمیونیکیشن سسٹم اور متعدد دیگر منصوبے شامل ہیں۔ ان اصلاحات نے لاہور ہائیکورٹ کو ملک کی جدید ترین عدالتی اداروں میں شامل کیا۔

ریکارڈ مینجمنٹ ،QR کوڈ فائل ٹریکنگ

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے عدالتی ریکارڈ کے تحفظ اور شفافیت کیلئے ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم میں بنیادی اصلاحات کیں۔ روایتی دستی نظام کی جگہ جدید QR کوڈ فائل ٹریکنگ، کمپیوٹرائزڈ موومنٹ انڈیکس اور ڈیجیٹل فائل ٹریکنگ متعارف کرائی گئی۔اس نظام کے ذریعے ہر عدالتی فائل کی نقل و حرکت، موجودہ مقام اور کارروائی کی مکمل معلومات فوری طور پر دستیاب ہو گئیں، جس سے فائلوں کے گم ہونے یا غیر ضروری تاخیر کے امکانات میں نمایاں کمی آئی۔

مصنوعی ذہانت (AI)  کا عدالتی نظام میں استعمال

چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے عدالتی نظام میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے استعمال کو بھی فروغ دیا۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں ججز اور عدالتی عملے کیلئے جنریٹو اے آئی پر خصوصی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا تاکہ مستقبل کی عدلیہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو سکے۔یہ پاکستان کی عدلیہ میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال کی جانب ایک اہم پیش رفت تصور کی جا رہی ہے، جس سے مستقبل میں عدالتی امور مزید تیز، مؤثر اور شفاف ہونے کی توقع ہے۔

عدالتی نظام میں شفافیت اور احتساب

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ادارہ جاتی احتساب کو مضبوط بنانے کیلئے متعدد اصلاحات متعارف کرائیں۔ آن لائن کمپلینٹ فائلنگ پورٹل، شکایات بکس، سپیشل میسنجرز کے نئے ایس او پیز، آڈٹ سیل میں پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس سروس کے افسران کی تعیناتی اور تمام فائلوں کو تین روز کے اندر نمٹانے کی پالیسی انہی اقدامات کا حصہ تھیں۔

اعظم نذیر تارڑ (وفاقی وزیر قانون)

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے کہ جسٹس عالیہ نیلم کے بطور چیف جسٹس 2 سال کا دور تاریخی ہے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کے ویژن سے جوڈیشل سسٹم میں اصلاحات سے انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے ساتھ وکلاء کی فلاح کیلئے بے شمار اقدامات کیے گئے۔ اس دوران میرٹ پر صاف اور شفاف طریقے سے ہائیکورٹ میں خالی آسامیوں کو پر کیا گیا ۔انہوں نے چیف جسٹس عالیہ نیلم کے اقدامات سے زیر التوا کیسز میں ریکارڈ کمی آنے کو خوش آئندہ قرار دیا ۔

 محمد احسن بھون (سینئرقانون دان)

 چیف جسٹس عالیہ نیلم کے اقدامات سے پورے جو ڈ یشل سسٹم میں بہتری آئی ہے۔ وکلاء کا دیرینہ مطالبہ تھا کہ لاہور میں تمام عدالتیں یکجا ہوں، چیف جسٹس عالیہ نیلم نے یہ مطالبہ بھی پورا کردیا۔ اب لاہور میں جوڈیشل ٹاور بنایا جارہا ہے ۔ملک بھر کی وکلاء تنظیمیں جسٹس عالیہ نیلم کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں ۔

پیر مسعود چشتی (وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل )

 جسٹس مس عالیہ نیلم کا بطور چیف جسٹس دور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ان دو سالوں میں مختلف کرائسسز آئے لیکن چیف جسٹس عالیہ نیلم ڈٹ کر کھڑی رہیں اور انہوں انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز کیا۔ ان کی پالیسی سے نہ صرف انصاف کی فراہمی بہتر ہوئی بلکہ جوڈیشل افسران اور وکلاء کی فلاح کیلئے بلا تفریق تاریخی اقدامات کیے گئے ۔

 عرفان حیات باجوہ (صدر لاہور بار ایسوسی ایشن) 

 لاہور کے وکلاء چیف جسٹس عالیہ نیلم کے مشکور ہیں کہ انہوں نے جوڈیشل ٹاور کے منصوبے کی تکمیل کا بیڑہ اٹھایا۔جوڈیشل ٹاور ایک بڑا پراجیکٹ ہے جو چیف جسٹس کی ذاتی دلچسپی کے بغیر منظور نہیں ہونا تھا ۔جوڈیشل ٹاور میں وکلاء کیلئے بے شمار سہولتیں ہیں اور اس کا کریڈٹ چیف جسٹس عالیہ نیلم کو جاتا ہے ۔ ان کے دو سالہ دور میں وکلاء کی فلاح کیلئے جو اقدامات ہوئے وہ قابل تعریف ہیں۔ 

 سمیرا حسین (سی ای سی پنجاب بار کونسل)

 چیف جسٹس عالیہ نیلم خواتین وکلاء کیلئے مشعل راہ ہیں۔تاریخ میں پہلی مرتبہ چیف جسٹس عالیہ نیلم کے حکم پر خواتین وکلاء کیلے الگ باررومز اور کئی سنٹر بنائے گئے ،جس سے خواتین وکلاء اپنے آپ کو اب پہلے سے زیادہ محفوظ تصور کرتی ہیں۔

لاہور کا پہلا جوڈیشل ٹاور:جدید عدالتی انفراسٹر کچر کی بنیاد

لاہور میں تمام،عدالتیں ایک چھت تلے اکٹھی کرنے کا مشن ۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے جوڈیشل ٹاور کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے۔24 ارب کی لاگت سے دو جوڈیشل ٹاور تعمیر کیے جائیں گے جن میں 184 عدالتیں بنائی جائیں گی۔ اس کے ساتھ 476 گاڑیوں کیلئے پارکنگ پلازہ بھی بنایا جائے گا اور 10 منزلہ ایڈمن بلاک کے علاوہ ڈائری برانچ ، ریکارڈ روم ، اے ڈی سی آر سینٹر بھی بنائے جائیں گے۔ منصوبہ 30 ماہ کی مدت میں مکمل ہوگا۔جوڈیشل ٹاور کے سنگ بنیاد کی پر وقار تقریب میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور طارق خورشید خواجہ ، سینئر سول جج لاہور سعید رانا اور سینئر سول جج کریمنل ڈویژن جمیل بھٹی سمیت جوڈیشل افسران اور وکلاء کی بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی۔ 

شیئر کریں:

اپنا تبصرہ لکھیں