فٹبال ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف فتح کے بعد ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے فاک لینڈز جزائر پر دعویٰ ظاہر کرتے ہوئے ایک بینر اٹھایا جس پر ٹیم کو فیفا کی جانب سے تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دفاعی چیمپیئن نے اٹلانٹا میں ڈرامائی انداز میں آخری لمحات میں واپسی کرتے ہوئے دو گول کیے اور انگلش ٹیم کو دو، ایک سے شکست دی۔ اب اتوار کو ورلڈ کپ کا فائنل سپین اور ارجنٹینا کے درمیان کھیلا جائے گا۔ ورلڈ کپ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ جنوبی امریکہ اور یورپ کے چیمپئئن فائنل میں آمنے سامنے ہوں گے۔
دوسرے سیمی فائنل کے دوران انگلینڈ 1966 کے بعد ورلڈ کپ فائنل کے بہت قریب تھا لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ سیمی فائنل کے اس سنسنی حیز مقابلے میں انگلینڈ کے مینیجر تھامس ٹوخل کی ٹیم نے 55ویں منٹ میں اس وقت برتری حاصل کی جب مورگن راجرز کے عمدہ کراس پر انتھونی گورڈن نے گول کر دیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ انگلینڈ فائنل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لیکن ارجنٹینا ہار ماننے والا کہاں تھا۔
میچ کے آخری پانچ منٹ میں ارجنٹینا کے اینزو فرنانڈیز نے 25 گز دور سے شاندار شاٹ لگا کر سکور برابر کر دیا۔
اور پھر اضافی وقت میں وہ لمحہ آیا جب لیونل میسی نے بہترین کراس دیا اور لاوتارو مارتینیز نے ہیڈر کے ذریعے فاتحانہ گول کر کے انگلینڈ کا فائنل میں پہنچنے کا خواب پورا نہ ہونے دیا۔
گر سیمی فائنل کے دوران آخری سیٹی کے بعد ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے ایک بینر تھام کر جشن منایا جس پر لکھا تھا کہ ’فاک لینڈز ارجنٹینا کا حصہ ہے۔‘

جنوبی مغربی بحرِ اوقیانوس میں واقع فاک لینڈز جزائر ویسے تو برطانیہ کا ایک سمندر پار علاقہ ہے مگر ارجنٹینا اس پر دعویٰ ظاہر کرتا ہے۔ یہ جزائر ارجنٹینا کے مشرقی ساحل سے 300 میل کے فاصلے پر واقع ہیں۔
برطانیہ اور ارجنٹینا نے اپریل سے جون 1982 تک یہاں جنگ لڑی تھی۔ 74 روزہ تنازع میں 655 ارجنٹینی اور 255 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ جزائر سے تعلق رکھنے والے تین افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔
2014 میں فیفا نے ارجنٹائن فٹبال ایسوسی ایشن پر 20 ہزار پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا تھا جب اس کے کھلاڑیوں نے سلووینیا کے خلاف ایک دوستانہ میچ سے قبل یہی بینر اٹھایا تھا۔
دنیا میں فٹبال کی نگران تنظیم نے کہا تھا کہ اس اقدام نے سیاسی سرگرمیوں اور ٹیم کے طرزِ عمل سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کی تھی۔
خیال رہے کہ اب کی بار ارجنٹینا اب اپنے چوتھے عالمی اعزاز سے صرف ایک قدم دور ہے۔ اس سے قبل 1978، 1986 اور 2022 میں ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کی مجموعی طور پر ساتویں فائنل میں شرکت ہوگی۔
1978، 1986 اور 2022 میں بالترتیب ہالینڈ، مغربی جرمنی اور فرانس کے خلاف ارجنٹینا نے فاتح کا ٹائٹل جیتا تھا۔

انگلینڈ اور ارجنٹینا کے درمیان میچ کے بعد سفارتی تناؤ
بدھ کی فتح کے بعد ارجنٹینا کی نائب صدر وکٹوریہ ویارویل نے ایکس پر ایک پوسٹ میں بظاہر ارجنٹینی فوجیوں کی ایک ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ ’یہ محض ایک اور میچ نہیں تھا۔‘
ویارویل نے لکھا کہ ’فاک لینڈز ارجنٹینا کا حصہ ہے۔ انھوں نے یہ بینر سٹیڈیم میں لانے پر پابندی لگائی مگر وہ یہ بھول گئے کہ ہم انھیں اپنے خون اور اپنے دلوں میں لیے پھرتے ہیں۔‘
میچ سے قبل ویارویل نے کہا تھا کہ اس سیمی فائنل میں ’قابضین کو ان کی جگہ دکھائی گئی۔‘
ادھر برطانیہ میں کاروبار اور تجارت کے سیکریٹری آف سٹیٹ اور رکنِ پارلیمان پیٹر کائل نے کہا کہ ارجنٹینا کا بینر ’مکمل طور پر نامناسب‘ تھا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ فیفا اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرے گا۔
کائل نے بی بی سی بریک فاسٹ کو بتایا کہ ’میرے خیال میں (تحقیقات) یقیناً ہوں گی کیونکہ یہ فٹبال کے دوران سیاسی سرگرمی سے متعلق اصولوں کی سنگین خلاف ورزی تھی۔‘
ارجنٹینا کے کھلاڑیوں نے آخری 16 کے مرحلے میں مصر کے خلاف 3-2 کی ڈرامائی فتح کے بعد ایسے نعرے بھی لگائے تھے جن میں فاک لینڈز، اور ارجنٹینا کے عظیم کھلاڑیوں ڈیاگو میراڈونا اور لیونل میسی کا حوالہ دیا گیا تھا۔
تاہم سیمی فائنل سے قبل منیجر لیونل سکیلونی نے کہا تھا کہ وہ فٹبال اور سیاست کو ’آپس میں نہیں ملائیں گے۔‘
سکیلونی نے کہا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک فٹبال میچ ہے۔ میں چیزوں کو آپس میں نہیں ملا سکتا، خاص طور پر اس بات کے احترام میں کہ کئی برس قبل کیا ہوا تھا۔‘
’یہ ہماری تاریخ کا ایک بہت افسوسناک دور تھا، اور حقیقت یہ ہے کہ ہم اس بارے میں بہت کچھ نہیں کر سکتے۔‘
’دنیا کے دیگر حصوں میں بھی واقعات ہو رہے ہیں، اور ہم جنگ کے وجود پر تنقید کرتے ہیں۔ یقیناً ہم ان لوگوں کو یاد کرتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن یہ ایک فٹبال میچ ہے، ہمیں ان دونوں چیزوں کو گڈمڈ نہیں کرنا چاہیے۔‘
یہ سیمی فائنل، جس میں انگلینڈ کو اینزو فرنانڈیز اور لاؤتارو مارٹینیز کے آخری لمحات کے گولوں کی وجہ سے شکست ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان تاریخی کشیدگی کے باعث سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت کھیلا گیا تھا۔

ٹوخل ضرورت سے زیادہ محتاط
سیمی فائنل کا پہلا ہاف سخت مقابلے اور بار بار فاؤلز کی وجہ سے خاصا ہنگامہ خیز رہا۔ امریکی ریفری اسماعیل الفتح کو کھیل قابو میں رکھنے میں مشکل پیش آئی۔
میچ کے دوران جب انتھونی گورڈن نے انگلینڈ کو برتری دلائی تو ایسا لگ رہا تھا کہ 1966 کے بعد پہلی بار ٹیم ورلڈ کپ فائنل تک پہنچ جائے گی۔
لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، تجزیہ کاروں کے مطابق انگلینڈ آگے بڑھ کے کھیلنے کے بجائے اپنی برتری بچانے پر زیادہ توجہ دینے لگا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب میچ کا رخ بدل گیا۔
تھامس ٹوخل کی ٹیم نے گول کے بعد آہستہ آہستہ دفاعی انداز اختیار کر لیا اور ارجنٹینا کو کھیل پر حاوی ہونے کا موقع دے دیا۔
گورڈن کی جگہ دفاعی کھلاڑی ایزری کونسا کو میدان میں اتارنے کا مقصد بھی اسی حکمت عملی کا حصہ تھا تاہم یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔
انگلینڈ اپنی ہی پینلٹی ایریا کے گرد محدود ہو کر رہ گیا جبکہ ارجنٹینا مسلسل اٹیک کرتا رہا اور یوں انگلینڈ پر بظاہر دباؤ مزید بڑھ گیا۔
یاد رہے کہ انگلینڈ حالیہ برسوں میں کئی بار بڑے ٹورنامنٹس میں کامیابی کے قریب پہنچ کر ناکام ہوا تاہم اس کے لیے یہ شکست اس لیے زیادہ تکلیف دہ ہوسکتی ہے کیونکہ اس بار فائنل تک رسائی صرف چند منٹ کی دوری پر تھی۔
میسی کا فیصلہ کن کردار
میسی اب اپنے دوسرے ورلڈ کپ ٹائٹل سے صرف ایک قدم کی دوری پر ہیں۔
ارجنٹائن کے 39 سالہ لیونل میسی ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی ہیں تاہم اتوار کے روز کھیلے جانے والے فائنل میں ان کا سامنا سپین سے ہو گا جہاں نوجوان سٹار لامین یامال بھی اپنے کھیل کے باعث فٹبال فینز میں بہت پسند کیے جاتے ہیں۔
چار سال قبل ارجنٹینا کو عالمی چیمپیئن بنانے کے بعد بین الاقوامی کیریئر جاری رکھنے کے میسی کے فیصلے پر کافی بحث ہوئی تھی لیکن ان کی بے مثال کارکردگی نے ثابت کر دیا کہ وہ ارجنٹینا کو چوتھا عالمی کپ جتوانے کے لیے کتنے پرعزم ہیں۔

میچ کے بعد سوشل میڈیا پر بیشتر تبصروں میں انگلینڈ اور ارجنٹینا موضوعِ بحث رہے تاہم فٹ بال شائقین نے میسی کے کھیل اور انداز کو سب سے زیادہ سراہا۔
سبرینا ڈینیئل نامی صارف نے لکھا کہ ’ایک اور حریف میدان سے باہر! ارجنٹینا نے انگلینڈ کو شکست دے کر فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے۔ ارجنٹینا اور پوری ٹیم کو مبارک ہو۔‘
سوشل میڈیا پر میسی اور انگلینڈ کے کھلاڑی کے درمیان تلخی کی گونج

سوشل میڈیا پر پریتی نامی ایک صارف نے میچ میں میسی اور انگلینڈ کے کھلاڑی کے درمیان ایک تلخ لمحے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میسی نے جوڈ بیلنگھم کو گلا دبوچنے جیسی گرفت میں لے لیا۔ سوال یہ ہے کہ ارجنٹینا کے کھلاڑیوں کو اس طرح کے سخت رویے پر بھی زرد کارڈ کیوں نہیں دکھایا جاتا؟‘
نیو ڈینیئل نامی صارف نے لکھا کہ ’بار بار یہ تاثر کیوں دیا جا رہا ہے کہ انگلینڈ نے میسی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا؟ کیا آپ نے یہ بھی دیکھا کہ میسی خود انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے ساتھ کس طرح پیش آئے؟
میسی کے متعدد فینز نے اس موقع پر ان کی تعریفوں کے پل باندھے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ مجھے اس دور میں جینے کا موقع ملا جب لیونل میسی فٹبال کھیل رہے ہیں۔ میں واقعی شکر گزار ہوں۔‘
