کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ میں ورکرز ویلفیئر بورڈ میں گزشتہ 5برسوں کے دوران مبینہ غیر قانونی بھرتیوں کیخلاف دائر آئینی درخواست پر ابتدائی سماعت ہوئی، عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد چیئرمین، سیکریٹری ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 18 اگست تک جواب طلب کرلیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ میں 2021 سے 2026 کے دوران 500 سے زائد بھرتیاں خلاف قواعد کی گئیں، بھرتیوں کیلئے مقررہ قانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا نہ شفافیت کے تقاضے پورے کیے ۔ بورڈ کی انتظامیہ نے متعدد اسامیوں کیلئے نہ تواشتہارات جاری کیے اورنہ ہی امیدواروں سے تحریری یا زبانی امتحانات لیے ۔ قانون اور پالیسی کے مطابق نئی بھرتیوں کیلئے تحریری ٹیسٹ، انٹرویو اور میرٹ پر انتخاب ضروری ہے ، مگر متعلقہ حکام نے ان تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے تقرریاں کیں، جس سے اہل امیدواروں کے مساوی مواقع متاثر ہوئے ۔ درخواست میں چیئرمین ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ، سیکریٹری بورڈ اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے ۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ 2021 سے 2026 کے دوران کی جانے والی تمام بھرتیوں کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دیا جائے اور ذمہ دار حکام کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا حکم بھی دیا جائے جس پر عدالت نے احکامات جاری کئے ۔
ورکرز ویلفیئر بورڈ میں غیر قانونی بھرتیاں، فریقین کونوٹس جاری
