تازہ ترین

شہر میں ڈاکو راج، کلفٹن میں بینک سے نکلنے والا نوجوان ڈاکٹر دوران ڈکیتی قتل، گڈاپ میں ڈاکو کروڑوں کے زیورات لوٹ کر فرار

شیئر کریں:

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) شہر میں ڈاکو راج عروج پر پہنچ گیا،کلفٹن میں مسلح داکوئوں نے بینک سے رقم لیکر نکلنے والے نوجوان ڈاکٹر کو ڈکیتی کے دوران فائرنگ کرکے قتل کردیا اور فرار ہوگئے، ڈاکٹر آکاش والد اور کزن کیساتھ ایک بینک سے 50لاکھ روپے نکال کر دوسرے بینک میں رقم جمع کرانے بینک پہنچے تودو موٹر سائیکلوں پر 4ڈاکوؤں نے تعاقب کرکے نقدی لوٹنے کی کوشش کی، ڈاکوئوں کی فائرنگ سے ڈاکٹر آکاش کو سینے میں لگی گولی جان لیوا ثابت ہوئی، واقعے کے بعد اہلخانہ کا مقتول کی میت تین تلوار کے قریب رکھ کر احتجاج کیا اور فیلڈ مارشل اور وزیراعظم سے انصاف کی اپیل کی ہے، اہلخانہ نے ملزمان کی گرفتار ی تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔تاہم میئر کراچی کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا ، احتجاج میں ذوالفقار علی بھٹو جونیئر بھی مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لیے شریک ہوئے۔رواں برس ڈکیتی کے دوران جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 42ہوگئی۔ادھر گڈاپ سٹی میں رواں سال کی گھر میں سب سے بڑی ڈکیتی کی واردات، مسلح ملزمان نے گڈاپ کرپلانی ولاز کے بنگلے میں گھس کر اہل خانہ کو یرغمال بنایا اور کروڑوں روپے مالیت کے200 تالے سے زائد طلائی زیورات، چاندی، نقدی، قیمتی موبائل فونز اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہوگئے ۔ تفصیلات کے مطابق کلفٹن تین تلوار کے قریب بینک کے باہر پیر کوڈکیتی کی واردات کے دوران مزاحمت پر فائرنگ کےواقعے میں باپ کے سامنے اس کا جواں سال بیٹا 28 سالہ ڈاکٹر آکاش شدید زخمی ہو کر زندگی کی بازی ہار گیا، مقتول ڈاکٹر آکاش اپنے والد اور کزن کے ہمراہ آلٹو کار کی پچھلی سیٹ پر سوار تھا جو تین تلوار کے قریب ایک بینک سے 50 لاکھ روپے رقم نکلوانے کے بعد دوسرے بینک میں جمع کرانے کے لیے پہنچے ہی تھے کہ تعاقب میں آنے والے 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 ڈاکوؤں نے بینک کے باہر ان سے نقدی لوٹنے کی کوشش کی اور اس دوران سیکیورٹی گارڈ اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ تبادلہ بھی ہوا جس کے نتیجے میں کار کی پچھلی سیٹ پر موجود ڈاکٹر آکاش سینے کے قریب گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا تاہم اس دوران ایک مسلح ڈاکو کار کی پچھلی سیٹ سے نقدی کا شاپر اٹھا کر اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ لیجانے میں کامیاب ہوگیا جس میں 25 لاکھ روپے نقد تھے جبکہ بقیہ 25 لاکھ روپے لٹنے سے بچ گئے، شدید زخمی ڈاکٹر آکاش کو قریبی نجی اسپتال اسی گاڑی میں لیجایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہار گیا، واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس افسران موقع پر پہنچ گئے اور فوری طور کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے شواہد حاصل کیے گئے، ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ساؤتھ مہزوز علی نےبتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل اور ڈاکوؤں کا روٹ میپ مرتب کیا جا رہا ہے جبکہ سیکورٹی گارڈ کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے اور اس بات کا تعین فرانزک رپورٹ کے بعد کیا جائیگا کہ ڈاکٹر آکاش کو کس کی گولی لگی تھی۔ واقعے کے بعد مقتول ڈاکٹر آکاش کی لاش نجی اسپتال سے ضابطے کی کارروائی کے لیے جناح اسپتال منتقل کی گئی۔ جہاں مقتول ڈاکٹر آکاش کے اہل خانہ نے بتایا کہ ہم صنعتکار ہیں، ہمارے بچوں کو بے گناہ قتل کیا جارہا ہے، اعلیٰ شخصیات سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ واقعے کا نوٹس لیں، سڑکوں پر اس طرح سے پڑھے لکھے قابل لوگوں کو مارا جائے گا، ڈاکٹر آکاش جناح اسپتال میں 2 سال سے ڈیوٹی کر رہے تھے، انکے والد کی سکھر میں کاٹن فیکٹری ہے، ہم بھاری رقم ٹیکس کی مد میں ادا کرتے ہیں، ہمارے ساتھ اتنا ظلم کیا گیا ہے، ڈاکٹر آکاش غیر شادی شدہ تھا، مقتول ڈاکٹر آکاش کی لاش جناح اسپتال سے چھیپا سرد خانے منتقل کی گئی۔ ادھر گڈاپ سٹی تھانہ کی حدود رمضان لاسی گوٹھ کرپلانی ولاز کے بنگے میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب 8 ملزمان داخل ہوئے اور اہلخانہ کو یر غمال بنا کر بھاری مالیت کے طلائی زیورات، چاندی، نقدی، قیمتی موبائل فونز اور دیگر دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس ایچ او گڈاپ سٹی انسپکٹر محمد علی، ایس ڈی پی او گڈاپ فہد، ایس ایس پی ملیر عبدالخالق پیر زادہ، رینجرز اور دیگر قانونی نافذ کرنے والے اداروں کے افسران موقع پر پہنچ گئے، موقع سے شواہد اکھٹے کرنے کے لیے فارنزک کی ٹیم بھی فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور موقع سے شواہد اکھٹے کر لیے۔

شیئر کریں:

اپنا تبصرہ لکھیں