تعلیم و صحت

کیا پاکستانی طلبہ کو یوکرین جانا چاہیے؟

شیئر کریں:

ماسکو:(شاہد گھمن)فروری 2022 میں جب روس نے یوکرین میں خصوصی فوجی آپریشن کا آغاز کیا تو دنیا ایک نئے بحران سے دوچار ہو گئی۔

اس کے بعد لاکھوں یوکرینی اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے، جبکہ ہزاروں غیر ملکی طلبہ، جن میں پاکستانی بھی شامل تھے، اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے یوکرین چھوڑنے پر مجبور ہوئے، سرحدوں پر رش، شدید سردی، بے یقینی اور خوف کی وہ تصاویر آج بھی دنیا کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔

آج، چند برس بعد، ایک نئی صورتحال سامنے آ رہی ہے، پاکستان میں متعدد تعلیمی کنسلٹنٹس یوکرین کی جامعات میں داخلوں اور سٹوڈنٹ ویزوں کی بھرپور تشہیر کر رہے ہیں، سوشل میڈیا پر اشتہارات دیے جا رہے ہیں، سیمینار منعقد ہو رہے ہیں اور والدین و طلبہ کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ یوکرین میں تعلیم حاصل کرنا ایک بہترین موقع ہے۔

یہاں سوال کسی ملک یا اس کے تعلیمی نظام پر تنقید کا نہیں، بلکہ پاکستانی طلبہ اور ان کے والدین کے مستقبل کا ہے۔

2026 کے وسط تک بھی یوکرین کی سکیورٹی صورتحال مکمل طور پر معمول پر نہیں آئی، ملک کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں، فضائی حملوں کے سائرن اب بھی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں حفاظتی اقدامات بدستور نافذ ہیں۔

اگرچہ متعدد جامعات نے تدریسی سرگرمیاں بحال کر دی ہیں اور بعض ادارے ہائبرڈ یا آن لائن نظام کے ذریعے تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن مجموعی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔

ایسے میں یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ کیا پاکستانی طلبہ اور ان کے والدین کو مکمل حقیقت سے آگاہ کیا جا رہا ہے؟

کیا انہیں بتایا جاتا ہے کہ جس شہر میں انہیں بھیجا جا رہا ہے وہاں کی سکیورٹی صورتحال کیا ہے؟ کیا انہیں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اگر حالات اچانک تبدیل ہو جائیں تو ان کے انخلا کا کیا منصوبہ ہوگا؟ کیا کنسلٹنٹس صرف داخلہ دلوانے اور ویزا حاصل کرنے تک محدود ہیں یا بعد ازاں بھی طلبہ کی رہنمائی اور مدد کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ یوکرین کی کئی جامعات بین الاقوامی طلبہ کو داخلے دے رہی ہیں اور تعلیمی نظام کو بحال رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، یہ ان کا حق بھی ہے اور ان کی ضرورت بھی۔

لیکن اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سکیورٹی خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، اس لیے ہر طالب علم اور اس کے والدین کو فیصلہ مکمل معلومات، زمینی حقائق اور ممکنہ خطرات کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے۔

پاکستان سے ہر سال ہزاروں نوجوان بہتر مستقبل کی امید میں بیرون ملک تعلیم کے لیے جاتے ہیں، ان کے والدین اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی ان کے خوابوں پر خرچ کرتے ہیں۔

ایسے میں کسی بھی فیصلے کی بنیاد صرف کم فیس، آسان داخلہ یا فوری ویزا نہیں ہونی چاہیے، بلکہ سکیورٹی، رہائش، طبی سہولیات، سفری راستے، سفارتی معاونت اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے انتظامات کو بھی برابر اہمیت دی جانی چاہیے۔

یہاں ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے، کیا پاکستان میں بیرون ملک تعلیم کے لیے کام کرنے والے کنسلٹنٹس کے لیے کوئی ایسا ضابطۂ اخلاق موجود ہے جس کے تحت وہ طلبہ کو متعلقہ ملک کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، ممکنہ خطرات اور سفری چیلنجز سے تحریری طور پر آگاہ کریں؟ اگر نہیں، تو اس جانب توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

میرا مقصد کسی طالب علم کو خوفزدہ کرنا یا کسی ملک کی مخالفت کرنا نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار صحافی کی حیثیت سے ایک اہم سوال اٹھانا ہے، اگر چند سال پہلے یہی طلبہ اپنی جان بچانے کے لیے یوکرین چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے، تو آج انہی طلبہ کی نئی نسل کو دوبارہ وہاں بھیجنے سے پہلے ہر پہلو کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا چاہیے۔

تعلیم یقیناً زندگی بدل دیتی ہے، لیکن ایک غلط فیصلہ زندگی کو مشکل بھی بنا سکتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہمارے نوجوان صرف خواب ہی نہ دیکھیں بلکہ حقائق کو بھی جانیں، بیرون ملک تعلیم کا انتخاب صرف داخلہ اور ویزا کا معاملہ نہیں، بلکہ زندگی، سلامتی اور مستقبل کا فیصلہ بھی ہے۔

ایسے فیصلے جذبات، اشتہارات یا دلکش وعدوں کی بنیاد پر نہیں، بلکہ تحقیق، شفاف معلومات اور زمینی حقائق کی روشنی میں ہونے چاہئیں کیوں کہ محفوظ مستقبل ہی کامیاب مستقبل کی بنیاد ہوتا ہے۔

شیئر کریں:

اپنا تبصرہ لکھیں