ورلڈ

کیا انڈیا روس کی منظوری کے بغیر براہموس میزائل فروخت کر سکتا ہے؟

شیئر کریں:

انڈیا کے پاکستان کے خلاف کیے گئے ’آپریشن سندور‘ کے دوران جن دو ہتھیاروں کا سب سے زیادہ ذکر ہوا وہ ایس-400 اور براہموس تھے۔

انڈیا نے ایس-400 روس سے حاصل کیا ہے، جبکہ براہموس انڈیا اور روس کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ ایس-400 ایک دفاعی نظام ہے، جس کا مقصد بیرونی حملوں کو روکنا ہے، جبکہ براہموس ایک جارحانہ ہتھیار ہے، جو دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

براہموس ایک سپر سونک میزائل ہے اور انڈیا اب اسے دیگر ممالک کو بھی برآمد کر رہا ہے۔

انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے رواں ہفتے انڈونیشیا کا دورہ کیا جہاں براہموس میزائل کی فروخت سے متعلق معاہدہ حتمی شکل اختیار کر گیا۔

اس سے قبل انڈیا فلپائن کو بھی براہموس میزائل فروخت کر چکا ہے۔ جنوری سنہ 2022 میں فلپائن کے اُس وقت کے وزیرِ دفاع ڈیلفن لورینزانا نے اعلان کیا تھا کہ 374 ملین امریکی ڈالر مالیت کے معاہدے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ

منظوری 31 دسمبر 2021 کو براہموس ایرو سپیس پرائیویٹ لمیٹڈ کے حق میں جاری کیے گئے نوٹس آف ایوارڈ کے ذریعے دی گئی تھی۔

ایسی صورتحال میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ جب انڈیا براہموس میزائل کسی دوسرے ملک کو فروخت کرتا ہے تو کیا اسے روس کی منظوری بھی درکار ہوتی ہے؟

دفاعی تجزیہ کار راہول بیدی کے مطابق ’براہموس معاہدے میں یہی سب سے اہم نکتہ ہے۔ انڈیا نے آج تک کھل کر یہ نہیں بتایا کہ اس میزائل کے ملکیتی حقوق کس کے پاس ہیں۔ اگر انڈیا نے فلپائن کو براہموس فروخت کیا تو یہ روس کی رضامندی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ اب انڈونیشیا کے ساتھ بھی معاہدہ طے پا چکا ہے، جبکہ ویتنام کے ساتھ کئی برسوں سے مذاکرات جاری ہیں۔‘

راہول بیدی کا کہنا ہے کہ ’یہ واضح نہیں کہ براہموس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں روس کا حصہ کتنا ہوتا ہے، تاہم ظاہر ہے کہ روس کو بھی اس میں حصہ ملتا ہے۔ براہموس ایک منفرد سپر سونک میزائل ہے جس کا سراغ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ اپنی نوعیت میں یہ غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل ہے اسی لیے کئی ممالک نے اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’فلپائن نے براہموس کو اپنے ساحلی علاقوں کے دفاع کے لیے نصب کیا ہے، جبکہ انڈونیشیا نے بھی اسے اسی مقصد کے لیے حاصل کیا ہے۔ جب منوہر پاریکر انڈیا کے وزیرِ دفاع تھے، اُس وقت بھی ویتنام کو براہموس فراہم کرنے پر بات ہوتی رہی، لیکن چین کے ناراض ہونے کے خدشے کے باعث اس معاملے میں ابہام موجود رہا۔‘

راہول بیدی کے مطابق ’آج بھی براہموس میزائل کے 20 سے 30 فیصد پرزے روس سے ہی آتے ہیں، خاص طور پر اس کا ریم جیٹ انجن روسی ساختہ ہے۔ اس لیے فی الحال براہموس کو سو فیصد انڈین میزائل قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘

براہموس ایک سپر سونک میزائل ہے اور انڈیا اب اسے دیگر ممالک کو بھی برآمد کر رہا ہے۔
براہموس ایک سپر سونک میزائل ہے اور انڈیا اب اسے دیگر ممالک کو بھی برآمد کر رہا ہے۔

براہموس کی ٹیکنالوجی کے ملکیتی حقوق کس کے پاس ہیں؟

دفاعی تجزیہ کار اور سوسائٹی آف پالیسی سٹڈیز کے ڈائریکٹر سی اُدھے بھاسکر کا کہنا ہے کہ ’انڈیا روس کی منظوری کے بغیر براہموس میزائل کسی بھی ملک کو فروخت نہیں کر سکتا۔‘

انھوں نے بی بی سی ہندی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’روس کی رضامندی لازمی ہے۔ براہموس کی برآمد سے انڈیا کو حاصل ہونے والی آمدنی میں روس کا بھی حصہ بنتا ہے۔ اس میزائل کے ٹیکنالوجی کے ملکیتی حقوق انڈیا اور روس، دونوں کے پاس ہیں اس لیے اسے مکمل طور پر انڈین میزائل نہیں کہا جا سکتا۔‘

اُدھے بھاسکر کے مطابق ’میری رائے میں براہموس کی برآمدات نے سلامتی اور سٹریٹجک شعبے میں انڈیا کی ساکھ کو مزید مضبوط کیا ہے۔ یہ خاص طور پر ایسے وقت میں اہم ہے جب آسیان کے متعدد ممالک چین کی بڑھتی ہوئی عسکری جارحیت پر گہری تشویش رکھتے ہیں اور اپنی سلامتی سے متعلق خدشات کم کرنے کے لیے نسبتاً کم لاگت اور قابلِ اعتماد دفاعی متبادل تلاش کر رہے ہیں۔‘

انڈیا نے ایس-400 روس سے حاصل کیا ہے، جبکہ براہموس انڈیا اور روس کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
براہموس میزائل انڈیا اور روس کے مشترکہ تعاون سے تیار کیا گیا ہے اور یہ روس کے P-800 ‘اونکس’ یا ‘یاخونت’ کروز میزائل سسٹم پر مبنی ہے۔

دہلی میں واقع جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سپیشل سینٹر فار نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر لکشمن کمار کا کہنا ہے کہ ’براہموس انڈیا اور روس کے درمیان دوطرفہ منصوبہ ہے اس لیے اس سے متعلق کئی تفصیلات عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ روس کی منظوری کے بغیر انڈیا براہموس میزائل کسی بھی ملک کو فروخت نہیں کر سکتا۔‘

لکشمن کمار کے مطابق ’براہموس ایرو سپیس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز ہی اس حوالے سے فیصلہ کرتے ہیں، جس میں روسی حکام بھی شامل ہوتے ہیں۔ بورڈ متفقہ طور پر طے کرتا ہے کہ براہموس میزائل کن ممالک کو فروخت کیا جائے اور کن کو نہیں۔ ابتدا میں براہموس زیادہ تر روسی ٹیکنالوجی پر مبنی تھا، تاہم اب ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن نے اس میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود روسی پرزوں پر انحصار مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’براہموس کو صرف دفاعی برآمد کے تناظر میں نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ اس کے اہم جغرافیائی و سیاسی مضمرات بھی ہیں۔ انڈونیشیا آبنائے ملاکا کے انتہائی اہم سٹریٹجک مقام پر واقع ہے اور وہ چین پر اپنا انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر انڈونیشیا انڈیا سے بحری دفاعی صلاحیت حاصل کرتا ہے تو اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری برقرار رکھنا چاہتا ہے، یعنی وہ چین کے مبینہ توسیع پسندانہ عزائم سے فاصلہ اختیار کر رہا ہے۔‘

انڈیا کی دفاعی صنعت کا حجم بڑا ہے، تاہم اس کی زیادہ تر پیداوار انڈین مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے پر مرکوز ہے۔ اس کے علاوہ غیر ملکی کمپنیوں کے لائسنس کے تحت بھی بڑی مقدار میں دفاعی سازوسامان تیار کیا جاتا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں انڈیا کی دفاعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور حکومت نے سنہ 2025 تک دفاعی برآمدات کا حجم پانچ ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اسی مقصد کے تحت دفاعی صنعت میں نجی شعبے کی شمولیت کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔

Getty Images
،انڈیا نے ایس-400 روس سے حاصل کیا ہے، جبکہ براہموس انڈیا اور روس کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

انڈیا براہموس میزائل کیوں فروخت کر رہا ہے؟

براہموس میزائل انڈیا اور روس کے مشترکہ تعاون سے تیار کیا گیا ہے اور یہ روس کے P-800 ’اونکس‘ یا ’یاخونت‘ کروز میزائل سسٹم پر مبنی ہے۔

براہموس کا موجودہ انڈین ورژن تقریباً 500 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے تاہم برآمدی ورژن کی رینج 290 کلومیٹر رکھی گئی ہے تاکہ میزائل ٹیکنالوجی کنٹرول رجیم کی 300 کلومیٹر کی حد کی پابندی برقرار رہے۔

سنہ 2004 میں پہلی کامیاب آزمائش کے بعد اس میزائل کو سنہ 2007 میں انڈیا کی مسلح افواج کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ اس وقت براہموس کے مختلف ورژن انڈین بری، فضائیہ اور بحریہ میں زیرِ استعمال ہیں۔

فلپائن کو فراہم کیا جانے والا براہموس میزائل ساحلی دفاع کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ فلپائن کے وزیرِ دفاع نے اس موقع پر کہا تھا کہ ’فلپائن میرین کور کی کوسٹل ڈیفنس رجمنٹ اس جدید دفاعی صلاحیت کو استعمال کرنے والی ابتدائی فورس ہو گی۔‘

وزیراعظم مودی نے رواں ہفتے انڈونیشیا کا دورہ کیا اور برہموس سے متعلق دونوں مُمالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کو حتمی شکل دی۔
،وزیراعظم مودی نے رواں ہفتے انڈونیشیا کا دورہ کیا اور برہموس سے متعلق دونوں مُمالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کو حتمی شکل دی۔

انڈیا کے براہموس میزائل خریداروں میں زیادہ تر ممالک کے چین سے سمندری یا سرحدی تنازعات ہیں

فلپائن کے اُس وقت کے وزیرِ دفاع ڈیلفن لورینزانا نے سوشل میڈیا پر معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’بطور ہیڈ آف پروکیورنگ اینٹیٹی میں نے حال ہی میں فلپائن بحریہ کے شور بیسڈ اینٹی شپ میزائل ایکوزیشن پروجیکٹ کے لیے نوٹس آف ایوارڈ پر دستخط کیے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت تین میزائل بیٹریوں کی فراہمی، آپریٹرز اور دیکھ بھال کرنے والے عملے کی تربیت اور مربوط لاجسٹک سپورٹ پیکیج بھی فراہم کیا جائے گا۔‘

جن ممالک کو انڈیا براہموس میزائل فراہم کر رہا ہے ان میں سے بیشتر کے چین کے ساتھ سمندری اور سرحدی تنازعات موجود ہیں۔ ڈاکٹر لکشمن کمار کے مطابق ان ممالک کی عسکری صلاحیت میں اضافہ کر کے انڈیا جنوبی بحیرۂ چین میں چین کو درپیش چیلنجز میں اضافہ کر رہا ہے۔

ڈاکٹر لکشمن کمار کہتے ہیں کہ ’سٹریٹجک لحاظ سے یہ انڈیا کے مفاد میں ہے کہ چین اپنے پڑوس میں ہی مختلف چیلنجز میں الجھا رہے۔ اس سے اس کی توجہ بٹی رہے گی اور وہ انڈیا اور بحرِ ہند کے خطے پر اتنا زیادہ دباؤ نہیں ڈال سکے گا۔‘

انڈین دفاعی امور کی تجزیہ کار اور آسٹریلین سٹریٹجک پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی ریزیڈنٹ سینئر فیلو راجیشوری پلئی راجاگوپالن کے مطابق ’براہموس میزائل کے برآمدی معاہدے صرف فوجی طاقت میں اضافے تک محدود نہیں، بلکہ ان کے ذریعے ایک اہم سٹریٹجک اور سفارتی پیغام بھی دیا جا رہا ہے۔‘

جن ممالک کو انڈیا براہموس میزائل فراہم کر رہا ہے ان میں سے بیشتر کے چین کے ساتھ سمندری اور سرحدی تنازعات موجود ہیں۔
،جن ممالک کو انڈیا براہموس میزائل فراہم کر رہا ہے ان میں سے بیشتر کے چین کے ساتھ سمندری اور سرحدی تنازعات موجود ہیں۔

براہموس کیوں اہم ہے؟

انڈین دفاعی امور کی ماہر راجیشوری پلئی راجاگوپالن نے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نامی نیوز ویب سائٹ کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’اگرچہ انڈونیشیا جنوبی بحیرۂ چین کے تنازع میں براہِ راست دعویدار نہیں، تاہم چین کی جانب سے انڈونیشیا کے خصوصی اقتصادی زون اور ناتونا جزائر کے اطراف میں بڑھتی ہوئی سرگرمیاں جکارتہ کے لیے تشویش کا باعث رہی ہیں۔ براہموس معاہدے کو سمندری دفاع میں کم از کم محدود سطح پر مزاحمتی صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ معاہدہ انڈیا کے لیے تزویراتی اور تجارتی، دونوں اعتبار سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ انڈیا نے بالآخر اپنی پرانی ہچکچاہٹ ترک کر دی ہے اور اب وہ دیگر ممالک کو چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔‘

اسی رپورٹ میں سنگاپور کی ایس راجارتنم سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز کے انڈونیشیا پروگرام سے وابستہ ریسرچ فیلو ادھی پریاماریزکی نے کہا کہ ’انڈونیشیا کے پاس پہلے ہی روسی ساختہ سخوئی لڑاکا طیاروں کا بیڑا موجود ہے، جو براہموس میزائل کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ معاہدہ ایک مناسب انتخاب بھی ہے۔‘

ان کے مطابق مستقبل میں انڈیا کی دفاعی برآمدات کے لیے انڈونیشیا ایک اہم اور امید افزا خریدار ثابت ہو سکتا ہے۔

سٹریٹجک امور کے ماہر برہما چیلانی کا کہنا ہے کہ ’براہموس نسبتاً کم وسائل رکھنے والے ممالک کے لیے ایک نہایت اہم ہتھیار بن کر ابھرا ہے۔‘

انھوں نے دو جون کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’سٹریٹجک اعتبار سے براہموس ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو محدود وسائل رکھنے والے ممالک کے لیے سمندری طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نسبتاً کم لاگت والا یہ میزائل ایک طاقتور حریف کو بھی غیر متناسب انداز میں شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘

برہما چیلانی کے مطابق ’براہموس میخ 2.8 سے 3.0 کی رفتار سے پرواز کرتا ہے، جو آواز کی رفتار سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔ اس لیے انڈیا کے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور روس کی این پی او ماشینوستروئینیا کے مشترکہ منصوبے کے تحت تیار کیا گیا براہموس، امریکہ کے ہارپون اور فرانس کے ایگزو سیٹ جیسے روایتی سب سونک کروز میزائلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تباہ کن اثر رکھتا ہے۔‘

شیئر کریں:

اپنا تبصرہ لکھیں