پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں ایک رینجرز اہلکار ہلاک ہوا ہے جن کے بارے میں ریڈیو پاکستان نے یہ رپورٹ کیا ہے کہ ان پر کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مظاہرین نے حملہ کیا تھا۔
ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ’کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم ’جوائنٹ ایکشن کمیٹی‘ کے مسلح گروہوں نے منگل کی صبح سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں رینجرز کا ایک اہلکار نائک امتیاز علی ہلاک ہوئے۔‘
ریڈیو پاکستان پر موجود تفصیلات کے مطابق ’کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح افراد نے راولا کوٹ میں بس ٹرمینل کے قریب شہری علاقے میں فائرنگ کی۔‘
’حملے کے بعد مسلح گروہوں نے جدید ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے وہاں موجود پولیس اہلکاروں اور ان کی مدد کے لیے پہنچنے والے رینجرز اہلکاروں کو براہِ راست نشانہ بنایا۔‘
ریڈیو پاکستان کی جانب سے مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ ’حملہ آوروں کی فائرنگ سے رینجرز کا ایک اہلکار شدید زخمی ہوا جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔‘
واضح رہے کہ راولاکوٹ میں کالعدم قرار دی جانے والی ’جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی‘ کے مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں 15 جولائی یعنی کل بروز بدھ راولاکوٹ سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔
تنظیم نے اس سے قبل نو جون کو بھمبر سے لانگ مارچ شروع کیا تھا، تاہم راولاکوٹ پہنچنے پر انتظامیہ نے شرکا کو آگے بڑھنے سے روک دیا تھا۔ اس کے بعد سے لانگ مارچ کے شرکا راولاکوٹ کے نواحی علاقے دریک عیدگاہ میں دھرنا دیے ہوئے ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں اور حکومتی کریک ڈاؤن میں اب تک حکام نے کم از کم 18 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں چار پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔
