حمل کا ٹھہرنا، اس کی مدت اور بچے کی پیدائش تک کا سفر ہمیشہ سے دنیا بھر میں تحقیق کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ سائنسدان مسلسل نئی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، خصوصاً اس حوالے سے کہ پیدائش سے پہلے رحمِ مادر میں موجود بچے کی حفاظت کیسے یقینی بنائی جائے۔
حمل کے دوران خواتین کو مختلف اقسام کی ادویات دی جاتی ہیں۔ لیکن یہ ادویات ماں اور رحم میں موجود بچے کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہیں یا نہیں، اس بارے میں ڈاکٹروں اور سائنس دانوں کے پاس اکثر مکمل معلومات موجود نہیں ہوتیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ حمل کے دوران پلیسینٹا کا براہِ راست مطالعہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔
واضح رہے کہ پلیسینٹا بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرتا ہے اور بچے کے خون سے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔
اس مسئلے کے حل کے لیے ’آئی سی ایم آر نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ آن ویمنز ہیلتھ‘ اور ’آئی آئی ٹی بمبئی‘ کے سائنس دانوں نے ’پلیسینٹا آن اے چِپ‘ کے نام سے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی لیبارٹری میں ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جس میں انسانی نال یا پلیسینٹا کے اہم مراحل کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔
اس تحقیق کے نتائج بین الاقوامی سائنسی جریدے ’بایوفیبریکیشن‘ میں شائع ہوئے ہیں۔ اس تحقیق میں انشُل بھِدے، سورَو مکھرجی، ڈاکٹر کنجلکا گھوش، پروفیسر ابھیجیت مجمدار اور پروفیسر دیپک مودی نے حصہ لیا۔
’پلیسینٹا آن اے چِپ‘ کی مدد سے سائنس دان بہتر طور پر سمجھ سکیں گے کہ غذائی اجزا، ہارمونز، ادویات اور جسم کے فاضل مادے ماں اور رحم میں موجود بچے کے درمیان کس طرح منتقل ہوتے ہیں۔
سائنس دانوں نے انسانی ’ٹرافوبلاسٹ‘ اور ’اینڈوتھیلیل‘ خلیات کی مدد سے دو الگ حصوں پر مشتمل یہ نظام تیار کیا ہے۔
یہاں اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ ’ٹرافوبلاسٹ‘ وہ ابتدائی خلیے ہیں جو ماں کے جسم سے غذائیت اور آکسیجن لینے کا نظام بناتے ہیں، یعنی یہی خلیے آگے چل کر نال بناتے ہیں۔ اسی طرح ’اینڈوتھیلیل‘ وہ خلیے ہیں جو خون کی نالیوں کی اندرونی دیوار بناتے ہیں اور خون کو آسانی سے گزرنے دیتے ہیں۔
لیبارٹری میں تیار ہونے والے اس نظام نے کامیابی سے یہ ثابت کیا کہ یہ ہارمونز کی پیداوار، غذائی اجزا کے تبادلے، جسم کے فاضل مادوں کے اخراج اور پلیسینٹا کی حفاظتی رکاوٹ جیسے اہم کاموں کی مؤثر انداز میں نقل کر سکتا ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو حمل کے دوران ادویات کی محفوظ ہونے، حمل سے متعلق پیچیدگیوں پر تحقیق اور جانوروں پر تجربات کی ضرورت کم کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انسانی پلیسینٹا کیا ہوتا ہے؟

امریکہ کے مایو کلینک کے مطابق پلیسینٹا ایک عضو ہے، جو حمل کے دوران رحم مادر میں بنتا ہے۔ یہ ’امبیلکل کارڈ‘ بچے سے جڑی ہوتی ہے۔ ’اسی نال کے ذریعے پلیسینٹا بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرتا ہے اور بچے کے خون سے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔‘
مایو کلینک کے مطابق بچے کی قدرتی پیدائش (نارمل ڈیلیوری) کی صورت میں تھوڑی دیر بعد پلیسینیٹا بھی اِسی راستے سے خارج ہو جاتا ہے اور اسے زچگی کا تیسرا مرحلہ کہا جاتا ہے اور اگر بچے کی پیدائش آپریشن یا سی سیکشن کے ذریعے ہو، تو اس صورت میں ڈاکٹر اسی عمل کے دوران پلیسینٹا کو بھی رحم مادرسے نکال دیتے ہیں۔
گائناکالوجسٹ ڈاکٹر صدف طارق کے مطابق پلیسینٹا جینیاتی طور پر جنین (فیٹس) کی ہی ایک ایکسٹینشن ہوتی ہے۔
’یہ انسانی جسم کا ایک عارضی عضو ہے جو ماں اور جنین کے درمیان رابطے کے لیے قدرتی طور پر ترتیب پاتا ہے اور پیدائش کے وقت اسے ضائع کر دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے بعد یہ غیر ضروری ہو جاتا ہے۔‘
’پلیسینٹا آن اے چِپ‘ کیسے کام کرتی ہے؟

پلیسینٹا (نال) صرف ماں اور بچے کے درمیان رابطے کا ذریعہ ہی نہیں ہوتا بلکہ رحم میں پرورش پانے والے بچے کو نقصان دہ مادوں سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم تکنیکی وجوہات کی بنا پر حمل کے دوران انسانی نال کا براہِ راست مطالعہ کرنا آسان نہیں ہوتا۔
اسی مشکل کو حل کرنے کے لیے سائنس دانوں نے ایک چھوٹا سا لیبارٹری سسٹم تیار کیا ہے جو انسانی نال کے کام کرنے کے طریقے کی نقل کرتا ہے۔ یہ لیبارٹری میں ان حیاتیاتی عمل کو دوبارہ تخلیق کرتا ہے جو حمل کے دوران ماں اور بچے کے درمیان ہوتے ہیں۔
یہ آلہ دو الگ حصوں پر مشتمل ہے، جن کے درمیان انتہائی باریک سوراخوں والی ایک جھلی یعنی ’میمبرین‘ موجود ہوتی ہے۔
اس جھلی کے ایک طرف نال (پلیسینٹا) کی بیرونی تہہ بنانے والے خلیات یعنی ’ٹرافوبلاسٹ‘ اور دوسری طرف خون کی نالیوں کی اندرونی تہہ بنانے والے خلیات یعنی ’اینڈوتھیلیل‘ رکھے جاتے ہیں۔ اس طرح لیبارٹری میں انسانی نال کی حفاظتی تہہ جیسا ایک مصنوعی نظام تیار کیا جاتا ہے۔
ٹرافوبلاسٹ خلیات حمل کے ابتدائی مرحلے میں بنتے ہیں اور بعد میں نال کا اہم حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی خلیات ماں اور رحم میں موجود بچے کے درمیان رابطہ قائم کرتے ہیں۔
یہ خلیات بچے تک غذائی اجزا اور آکسیجن پہنچانے کے ساتھ ساتھ ایسے ضروری ہارمونز بھی پیدا کرتے ہیں جو حمل کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ’پلیسینٹا آن اے چِپ‘ میں نال کی بیرونی تہہ تیار کرنے کے لیے انہی خلیات کو استعمال کیا گیا ہے۔
دوسری جانب، اینڈوتھیلیل خلیات خون کی نالیوں کی اندرونی سطح پر موجود ہوتے ہیں۔ یہ خون کے بہاؤ کو منظم رکھنے، خون کے ذریعے ضروری مادوں کے تبادلے میں مدد دینے اور خون کی نالیوں کو صحت مند رکھنے کا کام انجام دیتے ہیں۔
نال میں یہی خلیات بچے کی خون کی نالیوں کی اندرونی تہہ بناتے ہیں، اسی لیے سائنس دانوں نے چِپ میں بھی انھیں استعمال کرکے بچے کی جانب موجود تہہ تیار کی۔
تجربات کے دوران اس چِپ نے حمل کے لیے ضروری ہارمونز پیدا کیے، گلوکوز جیسے غذائی اجزا کو کامیابی سے منتقل کیا، جسم کے فاضل مادوں کے تبادلے کو بھی ظاہر کیا اور یہ ثابت کیا کہ یہ صرف ضروری مادوں کو گزرنے دیتی ہے۔
سائنس دانوں نے اس چِپ پر خون میں گلوکوز کی زیادہ مقدار جیسی مختلف کیفیت بھی پیدا کیں۔ ان حالات میں چِپ نے بالکل اسی طرح ردِعمل ظاہر کیا جیسے ایک حقیقی انسانی نال کرتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں یہ نظام مختلف طبی حالات میں نال کے کام کو سمجھنے اور اس پر تحقیق کرنے میں نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

اس وقت حمل کے دوران ادویات کے محفوظ ہونے یا ان کے اثرات کے حوالے سے جاننے کے لیے زیادہ تر جانوروں پر کیے گئے تجربات پر انحصار کیا جاتا ہے۔
لیکن جانوروں اور انسانوں کی نال یعنی پلیسینٹا کی ساخت اور کام کرنے کا طریقہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اسی لیے جانوروں پر حاصل ہونے والے نتائج لازماً انسانوں پر بھی اسی طرح لاگو ہوں، اس کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔
اس کے علاوہ حمل سے متعلق بیماریوں، ماں اور بچے کے درمیان ہونے والے حیاتیاتی عمل، ادویات کے رحم میں موجود بچے تک پہنچنے کے طریقے اور نال سے جڑے مسائل پر تحقیق کے لیے انسانی جسم سے مشابہ ماڈلز کی ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ’پلیسینٹا آن اے چِپ‘ اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی جانوروں پر ہونے والے تجربات کا بہتر متبادل یا معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کی مدد سے مستقبل میں حمل کے دوران استعمال ہونے والی ادویات کی حفاظت کو زیادہ قابلِ اعتماد انداز میں دیکھا جا سکے گا، جبکہ ماں اور بچے کی صحت کو بہتر طور پر سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔
اس تحقیق سے وابستہ سائنس دان پروفیسر دیپک مودی کے مطابق اب تک تیار کیے گئے زیادہ تر ماڈلز خاصے پیچیدہ تھے۔ اسی لیے ان کی ٹیم نے سب سے پہلے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ انسانی نال حقیقت میں کس طرح کام کرتی ہے۔
تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ نال کے اندر ماں کا خون، خون کی نالیوں میں نہیں بہتا، بلکہ نال کے ٹشوز کے اردگرد گردش کرتا ہے۔ اسی عمل کے دوران آکسیجن اور غذائی اجزا بچے تک پہنچتے ہیں، جبکہ فاضل مادے واپس ماں کے جسم کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔
اسی کی بنیاد پر سائنس دانوں نے ایک ایسا سادہ ماڈل تیار کیا جو نظام کو پیچیدہ بنانے کی بجائے نال کے قدرتی طریقۂ کار کی نقل کرتا ہے۔
ان کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ثابت کرنا تھا کہ اتنا سادہ نظام بھی نال کے بنیادی کام انجام دے سکتا ہے۔ تجربات میں اس چِپ نے حمل کے لیے ضروری ہارمونز پیدا کیے، غذائی اجزا منتقل کیے، جسم کے فاضل مادوں کے اخراج کا عمل دکھایا اور بیماری جیسی مختلف حالتوں میں بھی حقیقی نال کی طرح مناسب ردِعمل ظاہر کیا۔
یہ چِپ بیماریوں کو سمجھنے میں کیسے مدد دے گی؟

پروفیسر دیپک مودی کے مطابق حمل سے جڑی کئی سنگین پیچیدگیوں کی ابتدا نال یعنی پلیسینٹا سے ہوتی ہے۔
لیکن چونکہ حمل کے دوران نال کا براہِ راست مطالعہ ممکن نہیں ہوتا، اس لیے سائنس دان ابھی تک پوری طرح یہ نہیں سمجھ سکے کہ حمل کے دوران ذیابیطس، پری ایکلیمپسیا (حمل میں ہائی بلڈ پریشر کی خطرناک کیفیت) اور بچے کی نشوونما میں کمی جیسی بیماریاں نال اور بچے کو کس طرح متاثر کرتی ہیں۔
محقق انشُل بھِدے کا کہنا ہے کہ ’ہماری ’پلیسینٹا آن اے چِپ‘ کی جدید ٹیکنالوجی ہمیں اس پوشیدہ نظام کو سمجھنے کا ایک نیا موقع فراہم کرتی ہے۔ لیبارٹری میں ہم بیماری جیسی مختلف حالتیں پیدا کر سکتے ہیں اور ایک ہی وقت میں دیکھ سکتے ہیں کہ نال کی حفاظتی تہہ کا ان حالات میں ردِعمل کیسا ہوتا ہے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’مثال کے طور پر اس تحقیق میں ہم نے خون میں گلوکوز کی مقدار بڑھا کر حمل کے دوران ذیابیطس جیسی کیفیت پیدا کی۔ ہم نے دیکھا کہ اس حالت میں نال نے اپنی حفاظتی صلاحیت کو برقرار رکھتے ہوئے ماں سے بچے کی طرف زیادہ گلوکوز منتقل ہونے دیا۔‘
ان کے مطابق اس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ حمل کے دوران ذیابیطس کی شکار خواتین میں اضافی گلوکوز بچے تک کیسے پہنچتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض اوقات بچے کی نشوونما معمول سے زیادہ ہو جاتی ہے۔
اس ٹیکنالوجی سے کون سی نئی معلومات حاصل ہو سکیں گی؟

پروفیسر دیپک مودی کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اب حمل سے جڑی کئی دیگر طبی حالتوں کا بھی تفصیل سے مطالعہ کیا جا سکے گا۔
اس کے ذریعے یہ سمجھنے میں مدد ملے گی کہ انفیکشن، غذائی کمی یا ماحولیاتی آلودگی جیسے عوامل پلیسینٹا کے کام کرنے کے طریقے اور بچے تک غذائی اجزا پہنچانے کے عمل کو کس طرح متاثر کرتے ہیں۔
اس ٹیکنالوجی کی ایک بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں انسانی خلیات کو ایک لیبارٹری کے محفوظ ماحول میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس سے ایسی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں جن تک جانوروں پر ہونے والی تحقیق یا حمل کے دوران براہِ راست مطالعے کے ذریعے پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔
اس تحقیق کا بنیادی مقصد یہ جاننا ہے کہ حمل سے متعلق پیچیدگیوں کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے نال میں کون سی تبدیلیاں یا خرابیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایسی معلومات مستقبل میں نئی اور علاج کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، جس سے ماں اور بچے دونوں کی صحت کا بہتر انداز میں تحفظ ممکن ہو سکے گا۔
کیا یہ ٹیکنالوجی دوران حمل ادویات کے اثرات کے بارے میں بتا سکتی ہے؟

ہم نے محققین سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کیا مستقبل میں اس تحقیق کی مدد سے حمل کے دوران استعمال ہونے والی ادویات کے محفوظ ہونے کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں، تاکہ اس مقصد کے لیے صرف جانوروں پر کیے جانے والے تجربات یا حاملہ خواتین پر محدود مطالعات پر انحصار نہ کرنا پڑے۔
پروفیسر دیپک مودی نے کہا کہ ’حمل کے دوران استعمال ہونے والی ادویات کے حوالے سے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اکثر یہ واضح نہیں ہوتا کہ آیا وہ رحم میں موجود بچے کے لیے مکمل طور پر محفوظ ہیں یا نہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ بعض وجوہات کی بنا پر زیادہ تر ادویات کے کلینیکل ٹرائلز میں حاملہ خواتین کو شامل نہیں کیا جاتا۔ اسی وجہ سے اس بارے میں معلومات محدود ہیں کہ حمل کے دوران بہت سی ادویات جسم میں کیسے کام کرتی ہیں اور ان کے بچے پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق ’یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کوئی دوا نال یعنی پلیسینٹا سے گزر کر بچے تک پہنچتی ہے یا نہیں۔ فی الحال اس بارے میں زیادہ تر معلومات جانوروں پر کیے گئے تجربات سے حاصل ہوتی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’کیونکہ انسان اور جانوروں کی نال میں نمایاں طور پر فرق ہوتا ہے اس لیے جانوروں پر ہونے والے تجربات کے بعد حاصل ہونے والے نتائج ہمیشہ انسانوں پر بھی درست ثابت نہیں ہوتے۔‘
پروفیسر مودی کے مطابق ’انسانی خلیات پر مبنی ’پلیسینٹا آن اے چِپ‘ اس مسئلے کے حل کا ایک نیا انداز اور طریقہ پیش کرتی ہے۔ اس کی مدد سے ہم کنٹرول شدہ لیبارٹری ماحول میں یہ جان سکتے ہیں کہ ادویات ماں سے بچے تک کس طرح پہنچتی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس سے دوا کی تیاری کے ابتدائی مرحلے میں ہی انسانوں سے متعلق اہم معلومات حاصل کی جا سکیں گی، جس سے مزید تحقیق اور آزمائش کے لیے زیادہ محفوظ اور مؤثر ادویات کے انتخاب میں مدد ملے گی۔‘

نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ آن ویمنز ہیلتھ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر گیتانجلی سچدیو نے کہا کہ ’ہم یہ دعویٰ نہیں کر رہے کہ یہ ٹیکنالوجی فوری طور پر جانوروں پر ہونے والی تحقیق یا کلینیکل تحقیق کی جگہ لے لے گی۔ اس کا مقصد موجودہ طریقوں کے ساتھ ساتھ انسانوں سے متعلق مخصوص اور مفید معلومات فراہم کرنا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مستقبل میں وسیع پیمانے پر جانچ اور تصدیق کے بعد یہ ٹیکنالوجی بعض جانوروں پر کیے جانے والے تجربات کی ضرورت کم کر سکتی ہے اور حاملہ خواتین کے لیے محفوظ علاج اور ادویات کی تیاری کے عمل کو تیز کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔‘
اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن ’پلیسینٹا آن اے چِپ‘ سائنس دانوں کو حمل کے دوران ہونے والے ان پیچیدہ حیاتیاتی عمل کو سمجھنے کا ایک نیا طریقہ فراہم کرتی ہے جو اب تک پوشیدہ رہے ہیں۔
مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی ماں اور بچے دونوں کے لیے زیادہ محفوظ ادویات تیار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
